Artical

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش نظر وائرس سے متاثرہ اضلاع میں پہلی سے 8ویں جماعت تک تدریسی عمل 28 اپریل تک نہیں ہوگا۔

Written by admin

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے، شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ملک کا ہر ضلع کورونا وائرس سے زیادہ متاثر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں پہلی سے 8ویں تک تدریسی عمل 28 اپریل تک کے لیے نہیں ہو گا اور صوبے اس حوالے سے فیصلہ کریں گے کہ کونسے اضلاع متاثرہ ہیں اور یہ پابندی کن اضلاع پر لاگو ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید مشاورت 28 اپریل کو ہوگی جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ عید سے پہلے چند کلاسز ہونی چاہیے یا نہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت میں تدریسی عمل 19 اپریل سے متاثرہ اضلاع سمیت دیگر تمام اضلاع میں جاری رہے گا تاکہ بچے امتحانات کی تیاری کرسکیں۔

یونیورسٹیز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ اضلاع میں یونیورسٹیز بند رہیں گی اور وہاں آن لائن کلاسز ہوں گی تاہم جو علاقے متاثرہ نہیں وہ معمول کے مطابق اپنا کام کرتے رہیں گے۔

امتحانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نویں سے بارہویں جماعت تک کے امتحانات مئی کے تیسرے ہفتے میں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ امتحانات کی تاریخ اس لیے بڑھائی گئی ہے تاکہ کورونا کے حالات اس وقت تک کچھ بہتر ہوجائیں تاہم امتحانات کو منسوخ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: این سی او سی کا وزیر کے اہلِ خانہ کی ویکسینیشن کی ویڈیو پر انکوائری کا فیصلہ

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز سے بھی درخواست کی ہے کہ وہاں داخلوں کو آگے بڑھایا جائے کیونکہ جب امتحانات دیر سے ہوں گے تو ان کے نتائج بھی دیر سے آئیں گے اور پھر یونیورسٹی میں داخلوں کے لیے مزید وقت چاہیے ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے 85 ہزار بچے ‘او لیول’ اور ‘اے لیول’ کے امتحانات دیں گے جس کے حوالے سے تمام صوبائی وزرا نے ان کو جاری رکھنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کیمبرج کی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تمام ایس او پیز پر عمل درآمد کروائیں گے۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ متعدد لوگ کہہ رہے ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک میں امتحانات نہیں ہورہے یہ درست نہیں، بنگلہ دیش کے علاوہ تمام ممالک میں امتحانات ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچے امتحانات کی تیاری کریں، امتحانات دینے ضروری ہیں اور یہ لازمی ہوں گے اور ایس او پیز کے مطابق ہوں گے۔

مزید پڑھیں: بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتے میں دو روز بند رکھنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں صرف بچوں کی بہتری ہے، کوشش ہے کہ بچوں کے اسکول جلد از جلد کھول دیں کیونکہ ان کی تعلیم کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران کیسز ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر متعدد پابندیاں عائد کرچکی ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا تھا کہ ہمارے لیے تعلیمی ادارے بند کرنا بڑا مشکل فیصلہ ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہے۔

اسلام آباد میں اس سے قبل عالمی وبا کے پھیلاؤ اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے این سی او سی کے اجلاس میں ملک کے مخصوص اضلاع میں 11 اپریل تک اسکولز سمیت تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ 6 اپریل کو اجلاس ہوگا جس میں مزید غور ہوگا کہ کیا کرنا ہے۔

حکومتی اعلان کے بعد اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی شہروں میں تعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ کووِڈ-19 کے اعداد و شمار کے لیے بنائی گئی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 3 ہزار 953 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 103 مریض انتقال کر گئے۔

وائرس کی تشخیص کے لیے 5 اپریل کو مجموعی طور پر 46 ہزار 665 ٹیسٹس کیے گئے جس کے نتیجے میں ملک میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 8.4 فیصد رہی جبکہ فعال کیسز 63 ہزار 102 تک پہنچ چکے ہیں۔

ملک بھر میں مجموعی طور پر اب تک کورونا وائرس سے 6 لاکھ 96 ہزار 184 افراد متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 14 ہزار 924 زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

Leave a Comment