Artical

فردوس عاشق سے بچنے کے لیے دروازے کو کنڈی لگا دی

Written by admin

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2021ء) گذشتہ شب سینئر صحافی جاوید چوہدری کے پروگرام میں معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر مندوخیل کے مابین تلخ کلامی ہوئی اور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی فردوس عاشق اعوان کے تھپڑ کے جواب میں قادر مندو خیل نے ان کا بازو مروڑنے کی کوشش کی جبکہ جاوید چوہدری اور ان کی ٹیم کے افراد یہ منظر دیکھتے رہے گئے۔

اس ہاتھ پائی کے دوران فردوش عاشق نے قادر مندوخیل پر چائے کا مگ پھینکنے کی کوشش کرتی بھی نظر آئیں۔اس دوران وہاں موجود پروڈکشن ٹیم کے ارکان نے معاملہ سمبھالنے کی کوشش کی۔لڑائی کی سامنے آنے والی ویڈیو کے علاوہ بھی پروگرام کے نبعد تلخ کلامی کا انکشاف ہوا جس کے باعث قادر مندوخیل سٹوڈیو کو باہر سے کنڈی لگا کر وہاں سے نکلنےمیں کامیاب رہے۔

اگرچہ اس واقعے کی کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی تاہم ٹی وی انتظامیہ کی جانب سے انڈپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی گئی ہے۔دونوں کے مابین دو مرتبہ لڑائی کا انکشاف ہوا۔قادر مندوخیل کے مطابق جب وہ پروگرام کے اختتام کے بعد جانے لگے تو فردوس عاشق نے پیچھے سے گالی دو اور مجھے پکڑنے کی کوشش گی۔،میں سٹوڈیو کے دروازے سے باہر نکل گیا اور باہر سے دروازے کو کنڈی لگا دی تاکہ وہ بطاہر نہ آسکے۔

جبکہ : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما عبد القادر مندوخیل نے کہا کہ میں نے فردوس عاشق اعوان کے بارے میں سُن رکھا تھا لیکن مجھے اتنا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس حد تک پہنچ سکتی ہیں۔ کل مطالبات کے حوالے سے مزدوروں کی ہڑتال تھی ، میں لاہور میں وہیں موجود تھا جہاں سے میں پروگرام میں شرکت کے لیے گیا۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام میں آدھے گھنٹے تک فردوس عاشق اعوان نے کسی کو بات نہیں کرنے دی ، اور وہ خود ہی حکومت کے حوالے سے گفتگو کرتی رہیں، جب مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے بولنا چاہا تو انہیں بھی نہیں بولنے دیا

، جب میری باری آئی تو پھر فردوس عاشق اعوان نے بولنا شروع کر دیا، میں نے ان سے کہا کہ فردوس باجی آپ نے آدھا گھنٹہ بات کر لی ہے ، مجھے بھی بولنے دیں، میں بھی اپنی پارٹی کے بارے میں بولنا چاہتا ہوں جس پر انہوں نے کہا کہ آپ کیا بولیں گے ، آپ کی پارٹی تو سر سے لے کر پاؤں تک کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے جس پر میں نے ان سے کہا کہ جس حکومت کو آپ کرپٹ کہہ رہی ہیں آپ خود بھی اس حکومت کی وزیر رہ چکی ہیں ۔

Leave a Comment