Artical

کریلا کو قدرتی انسولین کیوں کہا جاتا ہے ؟ چند دن میں ہی شوگر ختم ہوجائے گی

Written by admin

کریلا ایک مشہور سبزی ہے جس کا شمار کڑوی ترین سبزیوں میں ہوتا ہے مگر اس کے بے شمار طبی فوائد ہیں۔ اس کی پیداوار جنوبی ایشیاء، جنوب مشرقی ایشیا، چین اور افریقا کے علاقوں میں ہوتی ہےکریلے میں بے شمار حیاتین شامل ہیں جیسے وٹامن اے بی سی کے ۔اس کے علاوہ اس میں کیلشیم اور فولاد بھی موجود ہے۔ میگنیشیم، فاسفورس، پوٹاشیم اور زنک کی قابل ذکر مقدار بھی ہوتی ہے۔

اس کے بے شمار طبی فوائد ہیں مثلاً اسے خون صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ذیابیطس میں بھی بہت مفید ہے۔ اس میں لیٹین نامی ایک مادہ شامل ہے جو انسولین کی طرح کام کر کے خون
میں گلوکوز کو کم کرتا ہے۔ بلکہ اس سے خون میں انسولین کو قبول کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان اور چینی طب میں اسے سینکڑوں سال سے استعمال کیا جاتا ہے

کریلا قدرت کی طرف سے سبزی کی شکل میں انمول تحفہ ہے جس میں ہمارے جسم میں موجود بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے یہ سبزی پورے برصغیر میں اگائی اور کھائی جاتی ہے۔کریلا بیماریوں سے شفاء:کریلا اعلیٰ قسم کی خوبیوں سے مالا مال ہے یہ دافع زہر دافع بخار اشتہا انگیز مقوی معدہ دافع صفرا اور مسہل ہے۔ذیابیطس: کریلا ذیابیطس کے لیے دیسی علاج ہے

۔ اس میں انسولین سے مشابہہ ایک مادہ پایا جاتا ہے اسے نباتاتی انسولین کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مادہ خون اور پیشاب میں شوگر کی مقدار کم کرتا ہے۔ حکماء پچھلے کئی برس سے ذیابیطس کے علاج میں کریلے استعمال کرارہے ہیں۔ شوگر کے مریضوں کو چار پانچ کریلوں کا پانی روزانہ صبح نہارمنہ پینا چاہیے۔

(خیال رہے یہ بہت گرم ہوتا ہے حسب طبیعت استعمال کریں)کریلوں کے بیج کا سفوف بنا کر غذا میں شامل کرنا بھی بہتر ہے۔ شوگر کے مریض کریلوں کو ابال کر اس کا پانی (جوشاندہ) پئیں یا سفوف استعمال کریں تو شفایاب رہتے ہیں۔ کریلا میں بہت سے اجزاء اور وٹامنزاور آئرن موجود ہیں اس کاباقاعدہ استعمال بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہائی بلڈپریشر آنکھوں کے امراض اعصاب کی سوزش کاربوہائیڈریٹس کاہضم نہ ہونا شامل ہیں۔ کریلوں کا استعمال انفیکشن سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔کریلوں کے تازہ پتوں کا جوس بواسیر میں بہت مفید رہتا ہے۔

چائے کے تین چمچ پتوں کا جوس ایک گلاس لسی میں ڈال کر روزانہ صبح ایک ماہ تک پینا بواسیر کا عارضہ دور کرتا ہے۔ کریلوں کی جڑوں کا پیسٹ بواسیر کے مسوں پر لگانا بھی مفید ہے۔ خون کے متعدد امراض جن میں فساد خون سے پھوڑے پھنسیاں نکلنا خارش چنبل بھگندر جالندھر شامل ہیں کے علاج کیلئے کریلا بہت کارآمد ہے۔

تازہ کریلوں کا جوس (پانی) ایک کپ ایک چائے کا چمچہ لیموں کا رس ملا کر صبح نہارمنہ ایک ایک چسکی پینا مفید ہے پرانے امراض میں یہ علاج چار سے چھ ماہ تک جاری رکھنا پڑتا ہے۔کریلے کی جڑوں کو سانس کی بیماریوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

جڑوں کاملیدہ ایک چائے کا چمچ اسی مقدار میں شہد یا تلسی کے پتوں کا جوس ملا کر ایک ماہ تک روزانہ رات کو پینے سے دمہ برونکائٹس زکام گلے کی سوزش اور ناک کے استرکی سوزش کا عمدہ علاج ہے۔ہیضہ کا علاج: موسم گرما میں لاحق ہونے والے ہیضہ اور اسہال کے ابتدائی مرحلوں میں کریلوں کےپتوں کا تازہ جوس شفابخش دوا ہے۔ چائے کے دو چمچ جوس ہم وزن پیاز کے جوس اور ایک چائے کا چمچہ لیموں کا رس ملا کردینا شافی علاج ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Leave a Comment