Artical

یہ ایک بات اگر آپ کے شوہر میں ہے تو؟ وہ سب سے اچھا خاوند ہے؟

Written by admin

اسے عزت اور محبت دو: جب ن کاح کےدو بول پڑھ لینے کے بعد شو ہر سے تعلق قائم ہوگیا، تو اس لڑکی نے اس دو بول کی ایسی لاج رکھی ، کہ ماں کو اس نے چھوڑا ، باپ کواس نے چھوڑا ، بہن بھائیوں کواس نے چھوڑا ، اپنے گھر با ر کو چھوڑا ۔

اپنے خاندان کو چھوڑا، پورے کنبہ کو چھوڑا اور شوہر کی ہوگی۔ اب اس کے لیے اجنبی ماحول ہے ۔ اجنبی گھر ہے او رایک اجنبی آدمی کے ساتھ زندگی بھر نباہ کے لیے وہ عورت مقید ہوگئی، کیاتم اس قربانی کا لحاظ نہیں کرو گے ؟ اگر بالفر ض معاملہ برعکس ہوتا اور تم سے کہاجاتا۔ کہ تمہیں شادی کے بعداپنا خاندان چھوڑنا ہوگا۔

ماں باپ چھوڑنے ہوں گے ، اس وقت تمہارے لیے کتنا مشکل کام ہوتا، اس کی اس قربانی کا لحاظ کرو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، یہ اس کا حق ہے۔ بیوی کو صرف بیو ی نہ سمجھیں ، بلکہ ایک بہترین دوست رفیق حیات بھی خیال کریں، پھراس کے ساتھ تعلق بھی ایسا ہی رکھیں ، جیسا ایک مخلص دوست کے ساتھ رکھا جاتا ہے ۔ پھر آپ کو باہر کسی چیز کی کمی نہیں محسوس ہوگی۔

بہترین ہے وہ خاوند جس سے شادی کرکے بیوی اتنی خوش ہی خوش رہے جتنی اس سے شادی کرنے سے پہلے خوش رہتی تھی۔ زندگی کے سفر میں ان لوگوں پر توجہ نہ دیں جو آپ کے راستے میں کھڑے تھے۔ بلکہ ان لوگوں کا سوچیں جو ہر مقام پر آپ کے ساتھ کھڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ دکھ بھر ی داستان بہت دھیان سے سنتا ہے ۔ کچھ غم مٹا بھی دیتا ہے ۔ کچھ الجھنیں سلجھا بھی دیتا ہے لیکن سارے مسئلے نہیں حل کرتا کیونکہ اگر سارے ہی غم سلجھ جائیں تو آدمی اور اس میں بات چیت بند ہوجاتی ہے۔

وہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا جس میں نبھانے کی چاہت دونوں طرف سے ہو۔ کچھ لوگ ہمیشہ لو گ ہی رہتے ہیں ۔ بے انتہاء محبت ، اعتماد عزت و احترا م خلوص سے بھی اپنے نہیں بنتے ۔ شاید انہیں محبت کی طلب نہیں ہوتی

بس اپنی وقت گزاری کی عادت پوری کرنے کے لیے لوگوں کی شکل میں کھلونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی بیوی کا تہہ دل سے شکر یہ ادا کریں۔ کیونکہ وہ م و ت کی وادیوں سے گزر کر آپ کو باپ بناتی ہیں۔ کچھ سوالوں کے جواب صرف وقت دیتا ہے ۔ اورجو جواب وقت دیتا ہے وہ لاجواب ہوتے ہیں۔

تمہاری وجہ سے اگر کوئی بے سکون ہوجائے تو یاد رکھو تم ظالموں میں سے ہو۔ بے سکونی بڑھ جائے تو عبادت کاوقت بڑھادو اور اللہ سے بات کرواور اپنے دکھ کا مداوا اسی سے مانگو وہ رحیم و کریم ہے۔ عورت کے چہرے پرتمام رنگ مرد کی وجہ سے آتے ہیں۔

چاہے وہ خاموشی کے ہوں یا غم کے ۔ مرد کی امیری ، غریبی سے بالکل متاثر نہیں ہوتی وہ تو بس اس مرد سے متاثر ہوجاتی ہے۔ کہ کوئی مرد اسے کتنی عزت دیتا ہے ۔ اس قدر تھک گئی ہوں دنیا سے کہ اب تو بس اتنی سی خواہش ہے

کوئی آنکھوں پر ہاتھ پھیرے اور کہے “انا اللہ وانا الیہ راجعون “۔ محبت اور عزت کے لیے جھک جائیے لیکن جھک کر عزت اور محبت نہ مانگیں۔ کسی کا کردار تمہاری ذمہ داری نہیں کسی کی ذات تمہارا ٹھیکا نہیں جو تم ہو وہ بس تم خود ہی ہو اپنے آپ پر زیادہ توجہ دو لوگوں کے بارے میں زیادہ وہی سوچتے ہیں جن کی اپنی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی۔

Leave a Comment