Artical

گلے کے تمام امراض کا مجرب گھریلو نسخہ

Written by admin

صحت ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کو برقرار رکھنے کے لیے ہم بہت ہی زیادہ جتن کرتے ہیں۔ اور بعض اوقات صحت کو برقرار رکھنے کے چکروں میں ہم ہماری صحت کو خراب کر بیٹھتے ہیں اور بہت ہی خراب کر بیٹھتے ہیں۔ تو صحت کو برقرار نہ رکھنے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہم جو بھی چیز ہمارے ہاتھ لگتی ہے

ہم کھا لیتے ہیں اور مختلف قسم والی تیزابیت والی چیزیں کھانے سے یہ نقصان ہوتا ہے کہ ہمارے گلوں میں مسئلے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو آج میں ایک ایسا علاج لے کر آیا ہوں کہ جس کو کرنے سے گلے کے ہر طرح کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

میں آج آپ کو گلے کی انفیکشن یا گلے کے درد کو یا گلے کے زخمو ں کو ٹھیک کرنے کا نسخہ بتاؤں گا۔ نسخہ یہ ہے کہ آپنے لہسن لے لینا ہے اس کے تین یار چار دانے لے لینے ہیں۔ آپ نے اچھی طرح جو ہے چھلکا ہٹا لینا ہے۔ چھیل کر ہٹا لینا ہے اور تین یاچار پانی میں ڈال کر اسے جو ہے پانی میں ڈال کر دھو لینا ہے اور اس لہسن کو جو ہے اس پانی میں جو اتنا ابالنا ہے

کہ جو لہسن کا ذائقہ ہے وہ پانی میں داخل ہو جائے تو اس پانی میں جو ہے رات کو سونے سے پہلے غرارے کر نے ہیں۔ غرارے کرنے سے یہ ہوگا کہ گلے کا جو بھی انفیکشن ہے گلے کے جو بھی زخم ہیں گلے میں جو بھی مسئلے مسائل ہیں وہ دور ہو جائیں گے اور آپ ہرطرح کی گلے کی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کر سکیں گے۔

جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ گلے سے ہی گزر کر ہر چیز جو بھی ہم کھاتے ہیں وہ ہر گلے سے ہی گزر کر پیٹ میں جاتی ہے اور پیٹ میں جا کر وہ ہمارے جسم کو لگتی ہے۔ تو ہمیں سب سے پہلے تو یہ چاہیے کہ ہمیں اپنے گلے کا خیال رکھنا چاہیے تا کہ ہمیں کسی بھی قسم کا گلے کا انفیکشن نہ ہو سکے اور ہم با آسانی ہر چیز نہا یت ہی تسلی اور سکو ن کے ساتھ اور بنا کسی درد کے ساتھ کھا سکیں۔ گلے کے انفیکشن کے لیے یہ ریمیڈی بہت ہی خاص ہے۔

اس نسخے کو ضرور آزا ما ئیے گا۔ یہاں پر ایک اور بات بھی بتاتا چلوں کہ اگر گلے کا انفیکشن ہو جا ئے تو نہ ہی ہم سے بو لا جا تا ہے اور نہ ہی کوئی چیز کھا ئی جاتی ہے حتی ٰ کہ ہم پانی بھی نہیں پی سکتے۔ کیو نکہ بہت ہی زیادہ تکلیف ہوتی ہے انسان کو ۔ تو اس انفیکشن کو ٹھیک کرنے کے لیے یہ نسخہ بہت ہی اچھا ہے اور یہ نسخہ بہت ہی سادہ ہے اور بہت ہی اچھا ہے۔ اور اس کو رات کو سوتے وقت چند غراروں کی صورت میں کر نا ہے ۔ اور سو جانا ہے۔

Leave a Comment