Artical

والدین سے بد سلوکی کا انجام

Written by admin

ارشاد خدا وندی ہے وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً اور تمہارے رب کا قطعی حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت اور پرستش کرو او رماں باپ کے ساتھ اچھے سے اچھا برتاؤ کرو۔الله تعالی نے پچھلی قوموں سے بھی اس بات کا عہد لیا تھا کہ وہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں،

ارشاد خداوندی ہے وَإِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ لاَ تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللّہَ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَانا او رجب ہم نے بنی اسرائیل سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ تم الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے حسن سلوک کرو۔سورہٴ لقمان میں ماں باپ کا حق بیان کرتے ہوئے یہاں تک فرمایا گیا کہ اگر بالفرض کسی کے ماں باپ کافرو مشرک ہوں اور اولاد کو بھی شرک کے لیے مجبور کریں تو اولاد کو چاہیے

کہ ان کے کہنے سے کفر وشرک تو نہ کرے، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کی خدمت کرتی رہے، چناں چہ ارشاد ہے: وَإِن جَاہَدَاکَ عَلی أَن تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِیْ الدُّنْیَا مَعْرُوفاً رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک پر کافی زور دیا ہے ،

ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک پر جنت کی ضمانت اور ان کے ساتھ بد سلوکی پر جہنم کی وعیدیں سنائی ہیں، چناں چہ ایک شخص نے جب آپ صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ اولاد پر ماں باپ کا حق کتنا ہے؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ : وہ تمہاری جنت اور دوزخ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم ماں باپ کی اطاعت اور خدمت کے ذریعہ ان کو راضی رکھو تو جنت پاؤگے،

اس کے برعکس اگر ان کی نافرمانی کرکے انہیں ناراض کرو گے تو پھر تمہارا ٹھکانہ دوزخ میں ہو گا، ایک روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے خدا کی رضا مندی اور خوش نودی کو والدین
کی رضا مندی او رخوش نودی سے وابستہ فرمایا، چناں چہ فرمایا: رضی الرب في رضا الوالد، وسخط الرب فی سخط الوالد۔ الله کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے اور الله کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے ۔.

بعض روایات میں مخصوص حالات کے پیش نظر ماں باپ کی خدمت کو جہاد سے بھی مقدم قرار دیا گیا ، چناں چہ ایک شخص آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! موجود ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

تو پھر ان کی خدمت اور راحت رسانی میں جدوجہد کرو، یہی تمہارا جہاد ہے۔اسی طرح کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت جاہمہ رضی الله عنہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے او رعرض کیا کہ میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے اور میں آپ صلی الله علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے پوچھا، کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں ! آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر انہی کے پاس جاؤ اور انہی کی خدمت میں رہو،

ان کے قدموں میں تمہاری جنت ہے۔ والدین کی خدمت سے آدمی کس طرح جنت کا حق دار ہوتا ہے، اس کا ایک نمونہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دکھایا گیا، حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں،

وہیں میں نے کسی کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی تو میں نے دریافت کیا کہ یہ الله کا بندہ کون ہے جو یہاں جنت میں قرآن پڑھ رہا ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں ، ماں باپ کی خدمت واطاعت شعاری ایسی ہی چیز ہے ، پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ حارثہ بن نعمان اپنی ماں کے بہت ہی خدمت گذار اور اطاعت شعار تھے۔والدین کی اطاعت وخدمت سے نہ صرف یہ کہ آخرت میں سرفراز کیا جائے گا، بلکہ خدمت والدین کے دنیوی اثرات بھی ہیں، ماں باپ کی خدمت کرنے والوں کو الله تعالیٰ دنیا میں بھی خاص برکتوں سے نوازتا ہے، چناں چہ حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ ماں باپ کی اطاعت وخدمت اور حسن سلوک کی وجہ سے آدمی کی عمر بڑھا دیتا ہے۔ نیز رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ماں باپ کی خدمت وفرماں برداری کرو، تمہاری اولاد تمہاری فرماں بردار اور خدمت گذار ہو گی۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment