Artical

نفس کا علاج

Written by admin

حضرت بایزید بسطای ؒ جس راہ سے گزرتے اس راستے پر بادشاہ کی مجلس بھی آتی آ پ ؒ وہاں سے جب گزرتے تو بادشاہ ان کے ادب و احترام میں کھڑا ہو جاتا اور سب وزرا بھی کھڑے ہوجاتے بادشاہ و وزرا سلام کرتے آپؒ جواب دیتے اور گزرجاتے ایک دن ایسا ہوا کہ بادشاہ اور وزرا آپ کے ادب میں کھڑے تھے

کہ آپ ؒ نے اس بادشاہ کی طرف منہ کر کے تھوک دی آپ کے اس عمل پر بادشاہ اور وزراء کو غصہ آیا اور آپ کو برا بھلا کہنے لگے مریدین کو بات سمجھ نہ آئی پریشان ہوئے آگے جا کر اس عمل کے بارے پوچھا کہ آپ کے اخلا ق تو حسنہ ہیں۔

آپ نے ان کی طرف منہ کر کے تھوک دیا مریدین کے سوال پر آپ ؒ نے جواب دیا کہ میں یہی چاہتا تھا کہ اس لئے کہ میں روز یہاں سے گزرتا اور وہ میرے لئے کھڑے ہوتے تھے میں نفس میں جھانکتا تو ان کے کھڑے ہونے سے میرے نفس پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا مگر آج جب بادشاہ اور پورا دربار میرے ادب میں کھڑا ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرے نفس میں تھوڑی ہلچل ہوئی

اور نفس کے اندر یہ خیال آیا کہ بایزید اللہ نے تجھ پر اتنا کرم کیا ہے کہ شاہان وقت بھی تیرے اکرام میں کھڑے ہوتے ہیں پس جونہی نفس میں یہ خیال آیا میں نے چاہا کہ نفس کا علاج یہیں اسی وقت کر دوں کہیں بڑھ نہ جائے۔

پس میں نے اس لئے تھوکا کہ مجھے معلوم تھا کہ جب تھوکوں گا تو وہ مجھے گالیاں دیں گے اور بیٹھ جائیں گے جب انہوں نے برا بھلا کہا اور بیٹھ گئے میں نے نفس کو کہا سن لیا یہ ہے تیرا اصل مقام اب دیکھ وہاں گالیاں دے رہے ہیں مجھے تو نہ بادشاہ کے کھڑے ہونے سے کوئی غرض تھا نہ بیٹھنے سے میں تو اپنے نفس کو درست کرنا چاہتا تھا

نفس بڑا شیطان ہے یہ نفس کاملہ کے درجے پر پہنچ جائے تو بھی اپنی مکاری و عیار ی سے باز نہیں آتا طاق میں لگارہتا ہے کہ تھوڑی سی غفلت کہیں پر ہو اور پھر حملہ کرے اصل شرارت سے باز نہیں آتا اس لئے اہل اللہ آخری مراتب پر بھی پہنچ کر نفس کا دھیان رکھتے ہیں کہ کہیں یہ ڈس نہ لے۔شکریہ

Leave a Comment