Artical

منافق انسان جب کسی کو گراتا ہے تو دھکا نہیں دیتا بلکہ ؟؟

Written by admin

زندگی میں مشکل لمحات آتے ہیں بہت بارلگتا ہے کہ اب زندہ رہنے کے لیے کوئی وجہ باقی نہیں ہے بہت بار اپنے تمہیں چھوڑ دیتے ہیں بہت بار تم خود اپنی زندگی سے نفرت کرنے لگتے ہو سنو! زندگی اگر گراتی ہے تو پھر چلنا بھی سکھاتی ہے۔ اگر تم زندہ ہو تو تمہاری زندگی میں بہتری کی امید باقی ہے ۔ سنو ! تنہاء اگر تمہیں کبھی زندگی لگے تو خدا کو تلاش ضرور کرنا، اور پھر تلاش کرکے دیکھنا خدا تمہاری بے کار زندگی کو کیسے سنورا دیتاہے۔

ہم سمجھتے ہیں خدا ہمیں اوپر سے دیکھتا ہے حقیقت میں خدا ہمیں اندر سے دیکھتا ہے۔ جتنے مخلص آپ ہوتے ہیں۔ اتنے گھٹیا لوگوں سے آپ کا واسطہ پڑتاہے۔ تاثیر ہی الٹی ہے اخلاص کے امرت کی ۔ ہم جس کو پلاتے ہیں وہی زہر نکلتاہے ۔ منافق دوستوں سے سمجھدار دشمن بہتر ہے کیونکہ دشمن وار کرتا ہے

تو پتہ ہوتا ہے مگر منافق انسان دوست بن کر ذلیل کرواتا ہے۔ بعض لوگوں کے لیے ہم دروازے تو بند کرلیتے ہیں پر کھڑکی سے جھانکنا نہیں چھوڑتے ۔ وہی لوگ کامیا ب ہیں جو اپنے سر کو آسمان کی طرف شکوے کے لیے نہیں بلکہ شکر کے لیے اٹھاتے ہیں۔ انسان کا زوال تب شروع ہوتا ہے

جب وہ اپنے سے مخلص لوگوں کے ساتھ منافقت شروع کردیتا ہے۔ اپنی زندگی میں اتنے بہا در بنیں کہ ڈر بھی آپ سے ڈر جائے۔ ضروری نہیں کچھ غلط کرنے سے دکھ ملے بعض اوقات حد سے زیادہ اچھا ہونے کی قیمت چکا نی پڑتی ہے۔ زبردستی کی نزدیکیوں سے سکون کی دوریاں بہتر ہیں۔ جو تعلق ، واسطے اور رشتے اپنےہونے کا احساس نہ دلائیں نا کا نہ ہونا ہی بہتر ہے ۔ غلط کو غلط نہ سمجھنا جہالت کی نشانی ہے اور غلط کو غلط نہ کہنا غلامی کی نشانی ہے۔

معصوم لوگ پرخلوص محبت ، بہت زیادہ پرواہ اور احساس اس غلط فہمی میں کرتے رہتے ہیں کہ بدلہ میں ان کو بھی ویسے ہی رویے ملیں گے جبکہ حقیقت بہت مختلف ہوتی ہے۔ اورآخر میں ان کو تلخ اور دلخراش سچائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جس شخص سے محبت ہوتی ہے نا وہ ملے یا نہ ملے اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔ پھرچاہے اس سے بہتر یا بہترین بھی ہماری زندگی میں شامل ہوجائے پھر بھی کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی ہمیں اس کھوئی ہوئی محبت کی یاد تڑپاتی ہے۔

اور دل کہتا ہے کہ اگر وہ ہوتا تو کہانی کچھ اور ہوتی۔ منافق جب کسی کو گرانا چاہتا ہے تو اسکو دھکا نہیں سہارا دیتا ہے۔ ہزار چاہنے والوں سے ایک نبھانے والا بہتر ہے۔ دوسروں کے الفاظ لہجے اور رویے کا شکو ہ تو ہم سب کرتے ہیں لیکن اپنے الفاظ لہجے اور رویے کا ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا۔

ضروری نہیں کہ جس میں سانسیں نہیں وہی مردہ ہے جو جس میں انسانیت نہیں وہ کونسا زندہ ہے۔ کسی کے چہرے کا مذاق اڑانے سے پہلے سوچ لیں تو آپ تصویر میں نہیں مصور کی کاریگر ی میں نقص نکال رہے ہیں۔ آپ کسی سے سب کچھ چھین لینے کے باوجود اس کی قسمت اور نصیب نہیں چھین سکتے۔ کسی کو صرف چاہنا محبت نہیں اس کی ذات کے تمام پہلوؤں کو تسلیم کرنا محبت ہے۔ جہاں تعریف کرنی ہو وہاں بڑے بڑے چپ ہو جاتے ہیں اور برائی کرنے کے لیے گونگے بھی بول پڑتے ہیں۔

Leave a Comment