Artical

ملنا اور بچھڑنا زندگی کاحصہ ہے لیکن ایک بات یاد رکھنا؟

Written by admin

ملنا اور بچھڑنا زندگی کا حصہ ہے لیکن بچھڑنے کے بعد ملنا زندگی کی امید کہلاتا ہے فاصلہ کسی رشتے کو جدا نہیں کرسکتا ۔ اور وقت کسی نئے رشتے کی تخلیق نہیں کرتا اگرجذبات سچے ہوں تو رشتے ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ زندگی میں ہمیشہ خود پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔ خود سے توقعات لگانی چاہیں۔

کسی دوسرے سے لگائی گئی توقعات ہمیشہ تکلیف دیتی ہیں۔ برے اعمال دیمک کی طرح ہیں ان کے ذریعے باہر سے تو کچھ نہیں بدلتا مگر اندرے سے سب مٹی ہوجاتا ہے۔ جو لوگ اپنے دلوں میں یادوں کی امانتیں رکھتے ہیں ، وہ زندگی میں کبھی بوڑھے نہیں ہوتے ۔

قابل رشک ہے و ہ محبت جس میں تم کسی ایسے شخص کو پالو جو تمہارے ایمان کو مضبوطی بخشے اور تمہیں نیک بنادے ۔ اپنا مقابلہ کسی سے مت کرو نہ ہی خود کو کم تر سمجھو۔ تم جیسے بھی ہو بہترین ہو۔ بعض اوقات آپ کو اپنا اندر خالی محسوس ہوتا ہے۔

ایک کمی سے یقین کریں وہ کمی کسی اور کی نہیں اللہ تعالیٰ کی محبت کی کمی ہوتی ہے۔ پرندے اپنے پاؤں اور انسان اپنی زبان کی وجہ سے جال میں پھنستے ہیں ، گفتگو میں نرمی اختیار کرو ، کیونکہ لہجوں کا اثر الفاظ سے زیادہ ہوتا ہے۔ جب خود ہی اپنی اہمیت بتانی پڑے توسمجھ جائیں آپ کی کوئی اہمیت نہیں۔ مشکل بہت چھوٹی اللہ بہت بڑا ہے۔

وہ اللہ ہی تو ہے جو دل کی خاموشی بھی سمجھ لیتا ہے۔ دو چیزیں اخلاق کی وضاحت کرتی ہیں آپ کا ظرف جب آپ کے پاس کچھ بھی نہ ہو اور آپ کارویہ جب آپ کے پاس سب کچھ ہو۔ نیکیاں کرتے جائے دریا میں ڈالتے جاؤ جب کبھی زندگی میں طوفان آیا تو یہی نیکیاں کشتی بن جائیں گی۔

مسلمان کے دو ہی شوق ہوتے ہیں جب آذان ہوجائے تو مسجد کی طرف دوڑنا اور جب جنگ کا اعلان ہوجائے تو میدان جہاد کی طرف دوڑنا۔ یا اللہ جو پریشان حال ہیں اور اپنی پریشانیوں کوکسی سے بیان نہیں کرنا چا ہتے ان کی پریشانیوں کو دور فرما اے اللہ ! توا پنے نیک بندوں کوجو یاد کرتا ہے۔ وہ ہم سب عطا فرما۔ آمین۔ رب سے مانگنے کی عادت بنا لو کسی چیز کی کمی نہیں رہے گی۔

Leave a Comment