Artical

مشروط طلاق

Written by admin

ایک شخص کسی بات پر اپنی بیوی سے ناراض ہوا اور قسم کھا کر کہا کہ ’’جب تک تو مجھ سے نہ بولے گی میں تجھ سے کبھی نہ بولوں گا. ‘‘عورت تند مزاج تھی اس نے بھی قسم کھا لی اور وہی الفاظ دہرائے جو شوہر نے کہے تھے.

اس وقت غصہ میں کچھ نہ سوجھا مگر پھر خیال آیا تو دونوں کو نہایت افسوس ہوا. شوہر مایوس ہو کر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضرہوا کہ آپ کوئی تدبیر بتائیے. امام صاحبؒ نے فرمایا ’’ جاؤ شوق سےباتیں کروکسی پر کفارہ نہیں ہے.سفیان ثوریؒ کو معلوم ہوا تو نہایت برہم ہوئے اور امام ابو حنیفہؒ سے جا کر کہا آپ لوگوں کو غلط مسئلے بتا دیا کر تے ہیں.

امام صاحبؒ سفیان ثوریؒ کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا ’’جب عورت نے شوہر کو مخاطب کر کے قسم کے الفاظ کہے تو عورت کی طرف سے بولنے کی ابتدا ہو چکی، پھر قسم کہاں باقی رہی؟ ‘‘ سفیان ثوریؒ نے کہا ’’ حقیقت میں آپ کو جو بات وقت پر سوجھ جاتی ہے ہم لوگوں کا وہاں تک خیال بھی نہیں پہنچتا.

 

Leave a Comment