Artical

عورتوں سے مشورہ کرنا تب اہی کا باعث ہے

Written by admin

جو نصیحت نہیں سنتااسے ملامت سننی پڑتی ہے۔ کمزور ں پر رحم نہ کھانے والا طاقت وروں سے مار کھاتا ہے۔ دشم نوں سے ہمیشہ اور دوست سے اس وقت بچو جب وہ تمہاری تعریف کرنے لگے۔

اس کی ہمت پر قربان جونیک کام اخلا ص کے ساتھ کرتا ہے۔ بد سر شتوں کے ساتھ حسن سلوک ایسا ہے جیسے نیکوں کے ساتھ بدی کرنا۔ حریص آدمی ساری دنیا لے کر بھی بھوکا رہتا ہے۔ اور قانع آدمی ایک روٹی سے بھی پیٹ بھر سکتا ہے۔ بخیل آدمی کی دولت اسوقت زمین سے نکلتی ہے۔

جب وہ خود زیرزمین چلاجاتا ہے۔ مطالعہ غم اور اداسی کا بہترین علاج ہے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا نام زندہ رہے تو اپنی اولاد کو اچھے اخلاق سکھاؤ۔ راستے کی پہچان نہ رکھنے والا مسافر بے پر کا پرندہ ہے۔ مال ودولت کی زکوٰۃ نکالتے رہا کرو اس لیے کہ جب باغبان انگور کی بے کار شاخیں تراش دیتا ہے۔

تو اس پر زیادہ انگور آتا ہے۔ دنیا کمانا ہنر نہیں ، اگر ہوسکے تو ایک مرتبہ کسی کا دل جیت لو۔ نصیحت خواہ دیوار پر ہی کیوں نہ لکھی ہواسے اپنے کانوں میں ڈال دو۔ دوست وہ ہے جو پریشان حال کا ہاتھ پریشان حالی و تنگ دستی میں پکڑتا ہے۔

بھوک اور مسکینی میں دن گزارنا کسی کمینے کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے۔ رزق کی کمی اور زیادتی دونوں ہی برائی کی طرف لے جاتی ہے۔ دنیاداری کا نام ہے اللہ سے غافل ہوجانے کا ضروریات زندگی اور بال بچوں کی پرورش کرنا دنیا دار ی نہیں۔

مصیبت کو پوشیدہ رکھنا جوان مردی ہے۔ جوکوئی اپنی کمائی سے روٹی کھاتا ہے اسے حاتم طائی کا احسان نہیں لینا پڑتا۔ اچھی عادات کی مالکہ نیک اور پاکدامن عورت اگر فقیر کے گھر بھی ہوتو اسے بادشاہ بنا دیتی ہے۔ شیر سے پنجہ آزمائی کرنا اور تلوار پر مکہ مارنا عقلمند وں کا کام نہیں۔

عقلمند آدمی کوئی بھی بڑا کام کبھی کسی ناتجربہ کار کو نہیں سونپتا۔ بے کار بولنے سے منہ بند رکھنا بہت بہتر ہے۔ علم حاصل کرنے کے لیے خود کو شمع کی مانند پگھلاؤ۔ سانپ کے بچے بھی سانپ ہوتے ہیں ۔ اس لیے ان کی حفاظت کرنا بے وقوفی ہے۔ فتنہ انگیز سچائی سے مصلحت آمیز جھوٹ بہتر ہے۔ آہستہ آہستہ مگر مسلسل چلنا کامیابی کی ضمانت ہے۔

بوڑھا ہوجانے پر بچپن کو چھوڑ دو اور ہنسی مذاق ودل لگی جوانوں کے لیے چھوڑ دو۔ یہ ضروری نہیں جو خوبصورت ہو وہ خوب سیرت بھی ہو کام کی چیز اندر ہوتی ہے۔ باہر نہیں۔ عورتو ں سے مشورہ کرنا تباہی کا باعث ہے۔ حق شناس کتا باشکر گزار انسان سے کہیں زیادہ اچھا ہوتا ہے۔

خدا کے دوستوں کی اندھیری رات بھی روز روشن کی طرح چمکتی ہے۔ شیخ سعدیؒ سے کسی نے پوچھا:کونسی عورت بہتر ہے ؟ پاکدامن یا پھر حسین عورت؟ فرمایا:حسین عورت سے پاکدامن عورت بہتر ہوتی ہے۔ کیونکہ حسین عورت جواہرات کا صرف ایک ٹکڑا ہوتی ہے جبکہ پاکدامن عورت پورا خزانہ ہوتی ہے۔

Leave a Comment