Artical

روزہ چھوڑنا کیسا ہے

Written by admin

آپ نے مختلف مناظر جنت کو دیکھا ۔جہنم کو دیکھا۔ جنت کی نعمتیں ، جہنم کا ع ذاب۔ مختلف جگہوں سے گزرتے ہوئے آپ نے دیکھا ایک شخص سویا ہوا ہے۔ اور ایک فرشتے کے ہاتھ میں پتھر ہے۔ اس کے سر کے اوپر مارتا ہے۔ تو اسکا سر قیمہ ہوجاتا ہے۔ پتھرگرجاتا ہے۔

اتنے میں وہ اٹھانے جاتا ہے۔ اور اس کا سر ٹھیک ہوجاتا ہے۔ وہ آکر پھر اس کو مارتا ہے۔ پھر اس کا سر قیمہ قیمہ ہوجاتا ہے۔ آپ نے فرمایایہ کون ہیں؟ یہ وہ ہیں جو عشاء کی نماز پڑھے بغیر سوجاتا تھا۔ جو عشاء کی پڑھے بغیر سوجاتا تھا۔ پھر آپ نے دیکھا کچھ لوگ ہیں ۔ جو الٹے لٹکے ہوئے ہیں۔ مردوعورت ننگے اور نیچے سے آگ ان کو جلا رہی ہے۔ آپ نے فرمایا:یہ کون ہیں۔ کہا یہ وہ ہیں جو روزہ چھوڑ دیتے تھے۔ جو روزہ نہیں رکھتے تھے۔ ابھی گرمی کے روزے آرہے ہیں۔ اللہ امتحان لے رہا ہے۔

گرمی اور سردی کے ساتھ اللہ آزماتا ہے۔ اللہ کے بندوں جوان ہو ۔روزہ نہ چھوڑنا۔ یہ اللہ کا بہت بڑا عمل ہے ۔ ہر عمل کی جزا جنت ہے۔ اور روزے کی جزا اللہ خو د ہے۔ میرے اللہ نے فرمایا: روزہ میرے لیے ہے اور روزے کا بدلہ میں خود دوں گا۔ کام چھوڑدینا۔

کام تھوڑا کرلینا۔ ان یونیورسٹی سے کہتا ہوں کہ پڑھائی کم کردو ان بچوں کی۔ آپ سے کہتا ہوں اپنے کام تھوڑے کردو۔ اپنے نوکروں کی ڈیوٹی تھوڑی کردو۔ سب کو روزے کے لیے تیار کرو۔ خود روزہ رکھو۔ گرمی برداشت کرو۔ بھوک برداشت کرو۔ پیاس برداشت کرو۔ اللہ قیامت کی گرمی سے بچائے گا، بھو ک سے بچائے گا، پیاس سے بچائے گا۔

معاذ بن جبل کا جب انتقال ہونے لگا تو فرمایا: میرے اللہ تو جانتا ہے مجھے زندگی سے پیار تھا۔ اللہ کی قسم پیسوں کے لیے نہیں ، دنیا کے لیے نہیں ، مجھے پیار تھا تیری بارگا ہ میں لمبے لمبے سجدہ کرنے کے لیے مجھے زندگی سے پیار تھا شدید گرمی میں روزہ کی پیاس کو برداشت کرنے کے لیے ۔ مجھے زندگی سے پیار تھا تیرے علم کو سیکھنے کے لیے ، تیرے قرآن کو سیکھنے کے لیے ، میں اس لیے دنیا سے اور زندگی سے پیار کیا۔

کہ گرمی کی شدت سے روزے رکھو۔ لمبے لمبے سجدے کروں۔ تیرے علم کی محفلو ں میں بیٹھ کر تیرے علم کو حاصل کرو۔ آپ نے اس جوانی کو استعمال کرو۔ بھو ک سے لڑو۔ پیاس سے لڑو۔ جب پیاس لگے ، جب بھوک لگے تو ہاتھ اٹھاؤ اللہ کی قسم ! تمہاری دعاؤں پر عرش ہلے گا۔ بزدل نہ بننا۔

روزہ نہ چھوڑنا۔ ایک جنگ لڑی گئی ہے۔ بارہ ہزار صحابہ اور ایک لاکھ مرتد مسلما کضاب کے ساتھی۔ بڑی خوفنا ک جنگ تھی۔ اس میں تین ہزار شہید ہوئے۔ صحابہ تابعین اور سات سو شہید ہوئے۔ تو جھنڈا تھا زید بن خطاب کے ہاتھ میں، شہید ہوگیا اور گرگیا۔

پھر جھنڈا اٹھایا سالم رضی اللہ نے وہ زخمی ہوکر گر گئے اور جھنڈا گر گیا ۔ جھنڈ ااٹھایا حبیب نے وہ شہید ہوگئے اورجھنڈ ا گرگیا ۔ افراتفری مچ گئی۔ ایک صحابی زخمیوں کو تلاش کرتے ہوئے پانی پلا رہے ہیں۔ اس حال میں پیاس کی بہت شدت ہوتی ہے۔ تو جا کر دیکھا تو حضرت سالم رضی اللہ جنہوں نے دوسرے نمبر پر جھنڈا اٹھایا تھا۔ ان کاسانس چل رہاتھا۔

قریب گئے اورکہا سالم ۔ آنکھیں کھولی اور کہا کیاہوا؟ کہا اللہ نے فتح دی ہے ۔ ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی ابھی چل رہی ہے۔ کہا پانی پیو گے ۔ تو انہوں نے کہا بھائی یہ میرے ڈھال ہے اس میں پانی ڈال دے۔ میرا روزہ ہے میں زندہ رہا تو افطار کرلو گا۔ اور اگر میں مرگیا تو اللہ کے دسترخوان پر جا کر افطا رکروں گا۔ اس حال میں روزہ نہیں چھوڑا ۔ اور تم کہو کہ گرمی بہت ہے۔

Leave a Comment