Artical

دُرود شریف میں دو غلطیاں

Written by admin

نمازوں کے علاوہ خاص مواقع کے علاوہ دن میں جب بھی آپ چاہیں درود شریف پڑھ سکتے ہیں لیکن عام دنوں کے علاوہ جمعے کے دن خصوصی طور پر درود شریف پڑھنے کی تاکید ہے کیونکہ آپﷺ نے اس کا خود حکم دیا آپﷺ نے فرمایا جمعہ کے روز کثرت سے مجھ پر درود پڑھا کرو جو آدمی جمعہ کےر وز مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے

اسی طرح دعا سے پہلے دعا کے بعد پھر جہاں کہیں آپ کا نام لیا جارہاہو یا لکھا جارہا ہو یا کسی بھی طرح آپ کا ذکر آئے وہاں آپ کے لئے درود پڑھنا اسی طرح مسجد میں داخل ہوتے وقت درود شریف پڑھنا مسجد سے نکلتے وقت درود شریف پڑھنا پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد درود شریف پڑھنا یعنی ایک تو نماز کے اندر ہے

لیکن نماز سے فراغت کے بعد پھر اسی طرح ہر مجلس میں آپﷺ پر درود پڑھنا ضروری ہے پھر اسی طرح صبح شام کے اوقات میں یعنی یہ تمام مواقع ایسے مواقع ہیں جس میں آپ درود شریف پڑھ سکتے ہیں

اورموقع کوئی ہو یا نہ ہو دن یا رات کی گھڑیوں میں سے جس گھڑی میں آپ چاہیں جب چاہیں چلتے پھرتے کام کاج کرتے آپ اللہ کے رسول ﷺ کو یا د کرسکتے ہیں آپ کے لئے درود اور نبی ﷺ پر درود شریف پڑھنے کے کئی صیغے ہمارے ہاں مشہور ہیں اس میں کچھ تووہ ہیں جو آپﷺ سے ثابت ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جو لوگوں نے بعد میں خود بنا لئے ہیں تو وہ ایسے تمام ورژن یا ایسی تمام عبارتیں جو لوگوں نے خود اس معنیٰ کی بنائی ہیں

خواہ وہ عربی میں ہیں یا اردو میں ہیں تو ان کو پڑھنے کی حد تک تو پڑھا جاسکتا ہے یعنی اگر نظر میں کوئی ایسی عبارت موجود ہے جس میں آپﷺ کے لئے دعا کی گئی ہے یا آپ کی مدح کی گئی ہے یا آپ پر سلام بھیجا گیا ہے خواہ وہ نثر میں ہو یاشعر میں تو اس میں حرج تو کوئی نہیں لیکن وہ چیز جو خود آپﷺ نے ہمیں سکھائی اور جو آپﷺ کی طرف سے ہمیں ملی اس کا مقام باقی ہر انسان کے کلام پر کہیں بلند ہے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے

تو وہ درود شرف جو مسنون ہے وہ صیغہ جو آپﷺ سے ثابت ہے اس کا پڑھنا افضل ہے وہی اصل درود ہے اور باقی تو انسانوں کے خیالات یا جذبات کا اظہار ہے خواہ و ہ شعر میں ہو خواہ وہ نثر میں ہو خواہ اردو میں ہو یا پنجابی میں ہو یا کسی اور زبان میں ہو وہ تو پھر انسانوں کے کلام ہیں تو جس طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے کلام کو باقی تمام انسانوں کے کلام پر فضیلت ہے

اسی طرح نبی ﷺ کے کلام کو بھی باقی انسانوں کے کلام پر فضیلت ہے ایک عام شاعر کتنی بھی خوبصورت بات کرے لیکن اللہ کے رسول ﷺ سے آگے تو اس کی ابت نہیں ہوسکتی ایک عام انسان کتنے بھی خوبصورت انداز میں آپﷺ کا ذکر خیر کرے لیکن وہ اس کے برابر تو نہیں ہوسکتا جو نبی ﷺ نے خود ہمیں دیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment