Artical

دو مردوں یا دو عورتوں کو ایک بستر میں سونے کی ممانعت

Written by admin

اسلامی تعلیمات نے انسانی زندگی کی جزئیات تک اپنی روشنی پھیلائی ہے اور کوئی گوشہ ایسا نہیں چھوڑا جہاں اس کی ہدایت نے مشعل راہ نہ دکھائی ہو۔اس دور کی عام خباثتوں میں ہم جنسی کی خباثت بھی ہے نہ صرف مردوں میں بلکہ عورتوں میں بھی ہم جن.سی داخل ہونے لگی ہے۔ اور نئی تہذیب کے یہ گندے انڈے حیات انسانی کو نئی روشنی کے نام پر اور نئی تعلیم کے سائے میں بر باد اور فضا کو مسموم بنا رہے ہیں۔

جن حضرات نے عصمت چغتائی کا افسانہ “لحاف”(جو ایک حقیقت بتائی گئی ہے) پڑھا ہے ان کو معلوم ہے کہ دو عورتیں ایک لحاف میں کیا کیا حرکتیں کر سکتی ہیں۔ ان نازیبا حرکات کا یہاں بیان کرنا نامناسب نہیں ہے مگر دانش وحکمت کا بےبہا خزانہ احادیث نبویؐ میں ان کے سدباب کی صورتیں بتا دی گئی ہیں

تاکہ احتیاطی تدابیر کر کے ان برائیوں کو جو انسانی اختلاط کی مختلف شکلوں میں رونما ہوتی ہیں سما ج کو تباہ نہ کرسکیں ۔حضور نبی ﷺ نے ایک ہی بستر میں دو مردوں یا دو عورتوں کو ایک ساتھ سونے کی ممانعت فرمائی ہے۔

ب،ر ہنہ حالت میں ایک عورت کا دوسری عورت سے بدن مس کرنا منع ہے۔حضرت ابو سعید خدری ؓنے روایت کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مر د کسی مرد کو ننگا نہ۔ دیکھے اور نہ دو مرد ایک بستر اور ایک کپڑے (چادر یا لحاف) میں سوئیں اور نہ ہی دو عورتیں ایک کپڑے میں سوئیں (مشکو ٰۃ شریف ‘جسم کے پوشیدہ حصوں کے دیکھنے کے باب میں) نیز ریاض الصالحین میں واضح الفاظ کے ساتھ حدیث میں دس سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو الگ الگ بستروں پر سلانے کی ہدایت آئی ہے

اور یہ حکمت ومصلحت ہرذی ہوش کے سمجھ میں آنے والی ہے ۔ بدن سے بدن کے مس ہونے میں جو لذت آفرینی ہے اس کا سد باب اور پیشگی ازالہ ان حدیثوں کے ذریعہ ہو تا ہے اور مرض کے پیدا ہونے سے پہلے اسباب مرض کا تدارک ہے۔ احتیاط کا تقا ضا یہ ہے کہ اس زمانے میں سختی سے ان انمول ہدایتوں پر عمل کیا جائے اور سمجھداری بچوں اور سمجھدار بچیوں کو سختی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ بستروں میں سونے سلانے کا اہتمام کیا جائے۔

Leave a Comment