Artical

حضور ﷺ اور یتیم بچہ

Written by admin

روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عید کے دن گھر سے مسجد کی طرف تشریف لانے لگے راستے میں آپﷺ نے کچھ بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا انہوں نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے بچوں نے سلام عرض کیا تو نبی کریم ﷺ نے جواب ارشاد فرمایا اس کے بعد آپﷺ نے آگے چل کر دیکھا تو ایک بچے کو خاموشی کے ساتھ اداس بیٹھا دیکھا آپﷺ اس کے قریب رک گئے اور اس بچے سے پوچھا تمہیں کیا ہوا؟کیا وجہ ہے کہ تم اداس اور پریشان نظر آرہے ہو؟اس نے رو کر کہا اے اللہ کے محبوب ﷺ میں یتیم مدینہ ہوں میرے سر پر باپ کا سایہ نہیں ہے

جو میرے کپڑے لادیتا میری امی مجھے نہلا کرنئے کپڑے پہنا دیتی اس لئے میں یہاں ادا س بیٹھا ہوں ، نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا کہ تم میرے ساتھ آؤ ۔آپﷺ اسے لے کر واپس اپنے گھر تشریف لائے اور سیدہ عائشہ ؓ سے فرمایا ، حمیرا انہوں نے عرض کیا ،لبیک یا رسول اللہ ﷺ! اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہو، آپﷺ نے فرمایا تم اس بچے کو نہلا دو، چنانچہ اسے نہلاد یا گیا ،

اتنے میں نبی کریم ﷺ نے اپنی چادر کے دو ٹکڑے کر دیئے کپڑے کا ایک ٹکڑا اسے تہبند کی طرح باندھ دیا گیا اور دوسرا اس کے بدن پر لپیٹ دیا گیا۔ پھر اس کے سر پر تیل لگا کر کنگھی کی گئی ، حتی کہ جب وہ بچہ تیار ہوگیا اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ چلنے لگا تو نبی کریم ﷺ نیچے بیٹھ گئے اور اس بچے کو فرمایا: آج تو پیدل چل کر مسجد نہیں جائے گا بلکہ میرے کندھوں پر سوار ہو کر جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے اس یتیم بچے کو اپنے کندھوں پر سوار کر لیا اور اسی حالت میں اسی گلی میں تشریف لائے جس میں بچے کھیل رہے تھے

جب انہوں نے یہ معاملہ دیکھا تووہ رو کر کہنے لگے کہ کاش ! ہم بھی یتیم ہوتے اور آج ہمیں نبی کریم ﷺ کے کندھوں پر سوار ہونے کا شرف نصیب ہوجاتا۔ نبی کریم ﷺ جب مسجد میں تشریف لائے تو آپﷺ منبر پر بیٹھ گئے تو وہ بچہ نیچے بیٹھنے لگا نبی کریم ﷺ نے اسے ارشاد کر کے فرمایا تم آج زمین پر نہیں بیٹھو گے بلکہ میرےساتھ منبر پر بیٹھو گے ۔

چنانچہ آپﷺ نے اس بچے کو اپنے ساتھ منبر پر بٹھایا اور پرھ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا کہ جو شخص یتیم کی کفالت کرے گا اور محبت و شفقت کی وجہ سے اس کے سر پر ہاتھ پھرے گا اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں اتنی نیکیاں لکھ دے گا۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے

حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment