Artical

حضرت علی ؓ کے اقوال

Written by admin

انسان نہ ہی اپنی مرضی سے پیدا ہوا اور نہ ہی اپنی مرضی سے مرے گا پھر وہ ان کے بیچ کا عرصہ اپنی مرضی سے کیوں گزارنا چاہتا ہے؟ جس درخت کی لکڑ ی نرم ہوگی ، اس کی شاخیں زیادہ ہوں گی۔ نرم طبیعت اختیا ر کرو تاکہ تمہاری دوست زیادہ ہوں۔ اخلاق کی قیمت کچھ نہیں دینی پڑتی  ۔ مگر اس سے ہر چیز خرید ی جا سکتی ہے۔ جب انسان کی عقل مکمل ہوجاتی ہے تو اس کی گفتگو مختصر ہو جاتی ہے ۔

اگر کوئی اچھا لگے تو اس سے کم ملا کرو ، اگر کوئی زیادہ اچھا لگے تو اس سے صرف دیکھا کرو اور اگر کوئی دل میں اتر جائے تو اسے صرف یاد کیا کرو۔ جب بھی فارغ وقت ملے تو اپنی ماں کے پاس جا کر بیٹھا کرو، کیونکہ ماں کے ساتھ گزارا ہوا وقت قیامت کے دن نجات کا باعث بنے گا۔ کسی کے خلوص اور پیار کو اس کی بیوو قوفی  مت سمجھاؤ ، ورنہ کسی دن تم خلوص اور پیار تلاش کرو گے  اور لوگ تمہیں بیووقوف  سمجھیں گے۔ اگر دنیا میں سکون ہوتا تو اللہ کی کیوں یاد کرتا؟ سکون تو صرف ان لوگوں کے پاس ہے جو اللہ کی رضا کو اپنا راز سمجھتے ہیں۔

اگر کسی پر احسان کرو تو اسے دوسروں سے بھی چھپایا کرو۔ سب سے بڑا گنا ہ وہ ہے  جو کرنے والے کی نظر میں چھوٹا ہو۔ جو ذرا سی بات پر دوست نہ رہے سمجھے لینا وہ دوست کبھی تھا ہی نہیں۔ جب تم کسی سے محبت کرو تو اس سے ذرا بھی محبت نہ مانگو کیونکہ تم نے محبت کی ہے تجارت نہیں۔ اگر تم  کسی کو چھوٹا دیکھ رہے ہو تو تم اسے دور سے دیکھ رہے ہو یا پھر غرور سے۔

جب میں چاہتا ہوں کہ اللہ سے بات کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں ، اور جب میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ سے بات کرے ؟ تو میں قرآن پڑھتا ہوں۔ لوگوں سے بے وجہ بحث نہ مت کرو، اس سے ان کے دل میں تمہاری آبرو ختم ہو جائےگی ۔ اور لوگوں سے زیادہ مذاق بھی نہ کرو، کیونکہ اس سے لوگوں  میں تمہاری بات کرنے کی ضرورت پیدا ہو جائےگی۔

اس شخص پر ظلم کرنے سے بچا رہا کرو جس کے اللہ کے سوا کوئی نہ ہو۔ جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے ؟ تو آغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچانو۔ عقل مندی فکر میں مبتلا کر دیتی ہے۔ سب سے بہتر وہ شخص ہے ،

جو ایسے لوگوں سے اچھا سلوک کرے  جن سے اسے کوئی امید نہ ہو۔ جسکی تعلیم کا مقصد یہ ہو کہ، وہ علماء سے  بحث کرے، جاہلوں پر رعب جمائے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے ؟ وہ جہنمی ہے۔ تین کام کسی کے دل میں عزت بٹھاتے ہیں  (سلام کرنا، کسی کو اپنی جگہ دینا اور اصل نام سے پکارے)جب تم کسی شخص کی طبیعت پڑکھنا چاہوں تو اس سے مشورہ  لو۔ یقیناً تم اس کے مشورہ  سے اسکی  انصاف ، ظلم ، نیکی ، بدی سب جان جاؤ گے۔ جب کوئی دوست اپنے دوست کے لیے خلوص سے دعا کرتا ہے ،

تو وہ دعا اس کے دوست کے حق میں بعد میں اور پہلے اس کے اپنے حق میں قبول ہوجاتی ہے۔ جب دعا اور کو ششوں سے بات نہ بنے ؟ تو فیصلہ  اللہ پر چھوڑ دو، اللہ اپنے بندوں کے بارے میں بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

لوگ عام طور پر عیب سے یقیناً خالی نہیں ، پر کسی کے پوشیدہ عیب ظاہر نہ کرو۔ کیونکہ  ان کا فیصلہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کس طرح پتہ لگایا جائے کہ انسان پر آنے والی مصیبت سزا یا آزمائش ؟ تو جو مصیبت اللہ سے دور کرے وہ سزا اور جو قریب کرے وہ آزمائش۔ سب سے برا دوست وہ ہے ، جس کے لیے تکلف کرنا پرے۔ ہر کسی کو اتنی اہمیت دو جتنی وہ تمہیں دیتا ہے۔ اگر کم دو گے  گھمنڈ ی کھلاؤ گے  اور اگر زیادہ دو گے خود گر جاؤگے۔

Leave a Comment