Artical

جو عورتیں بغیر ڈوپٹے کے گھر سے باہر نکلتی ہیں نبی ﷺ کا فرمان سن لیں

Written by admin

حضرت قیس بن شماس ؓ کا بیان ہے ام خلاط نامی ایک صحابیہ اپنے بیٹے کے متعلق معلوم حاصل کرنے کیلئے دربار نبویﷺ میں حاضر ہوئیں چہرے پر نقاب ڈالے ہوئی تھیں۔ اس حالت کو دیکھ کر ایک صحابی ؓ نے کہا اپنے شہ۔ید بیٹے کی حالت معلوم کرنے آئی ہو اور چہرے پر نقاب مطلب یہ تھا کہ پریشان۔ی کے عالم میں بھی پردے کا اہتمام ۔ اُم خلاط ؓ نے ایک جواب جی ہاں بیٹے کی ش۔ہادت کی مصی۔بت میں مبتلا ہوگئی ہوں

لیکن اس کیوجہ سے شرم وحیاء کو چھوڑ کر دینی معصیت زدہ نہیں بنوں گا ۔ آپﷺ بیٹے کے بارے میں خوشخبری سنائی کہ تمہارے بیٹے کو دو اجر ملیں گے کہ اس لیے کہ ان کو اہل کتاب نے ق ت ل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ کسی غیرت مند خاتون کا ضمیر اس بات کو برداشت نہیں کرسکتا کہ حیاء وشرم کی چادر کو اتار کر مردو ں کے سامنے ننگی پھرتی رہے چاہے موقع خوشی کا ہو یا غم کا حیاء وشرم کا برقرار رکھنا کمال ہے ۔

اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اورمسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دے (جب وہ راستے میں نکلیں تو) اپنی چادروں کے گھونگٹ اپنے اوپر ڈال لیا کریں، اس سے امید ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور ان کو کوئی تکلیف نہ دی جائے گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔اسلام نے انسانوں کی فلاح وبہبود کے لیے جو پاکیزہ تعلیمات دی ہیں، وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔

اس نے انسانی معاشرے کو اخلاقی بے راہ روی سے بچانے کے لیے سدِ ذرائع کی تعلیم دی ہے۔ سدِ ذرائع کا مطلب ہے ب۔رائی کا باعث بننے والی باتوں کی روک تھام کرنا، اس کے لیے ہمیں کہاںسے مدد ملے گی؟ اس سلسلے میں ہم سب سے پہلے اللہ کے کلام سورۃ الاحزاب (آیت2) میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کیا ارشاد فرما رہے ہیں:اور جو (کتاب) تم کو تمہارے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے، اسی کی پیروی کئےجانا، بیشک اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

اس آیت میں تقوی پر مداومت اور تبلیغ و دعوت میں استقامت کا حکم ہے۔ تقوی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی روشنی کے مطابق اللہ کی اطاعت کرے اور اس سے ثواب کی امید رکھے اور اللہ کے ع۔ذاب سے ڈرت۔ا رہے۔اللہ رب العزت نے حضرت محمد کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایاتاکہ آپ تمام انسانوں کو ان کے غالب و ستودہ صفات پروردگار کے حکم کے مطابق اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپکو عبادت کی حقیقت واضح کرنے کے لیے مبعوث فرمایا۔ بندگی کا اظہار صرف اسی طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر کی مکمل اطاعت اور اس کی من۔ع کردہ اشیاء سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ نیز اس کے احکامِ عالیہ کو خواہشات و ش۔ہ۔واتِ نفسان۔یہ پر مقدم کرتے ہوئے اس کے حضور خاکساری اور انتہائی تواضع کی جائے۔ سعودی عرب، جو وحی و رسالت کا مرکزا ور حیا و ح۔ش۔مت کا گ۔ہوارہ ہے، یہاں ایک مدت سے اس معاملے میں لوگ سیدھے راستے پر گ۔امزن تھے۔ عورتیں چادریں وغیرہ اوڑھ کر مکمل پردہ کرکے گھر سے نکلا کرتی تھیں ۔

غیر محرم مردوں کے ساتھ آزادانہ میل جول کا تصور تک ان میں نہ تھا، بحمد اللہ مملکت سعودیہ کے اکثر شہروں میں آج بھی یہی صورت حال ہے لیکن دورِحاضر میں جبکہ کچھ لوگوں نے پردے کے متعلق نامناسب انداز میں گفتگو شروع کی ہے، جو پردے کے قائل ہی نہیں یا کم از کم چہرے کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، ان لوگوں کو دیکھ کر ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ شریعتِ مطہرہ کے اس حکم بالخصوص چہرہ ڈھانپ نے کے متعلق غل۔ط فہ۔می کا شک۔ار ہونے لگے ہیں۔

Leave a Comment