Artical

بواسیر کیوں ہوتی ہے؟ اسکی علامات اور علاج

Written by admin

وائرل نیوز! اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) بواسیر کا مرض پاکستان میں عام ہے۔ جلد توجہ نہ دینے اور ٹوٹکے کرنے سے اکثر مریض مرض کو پیچیدہ کر لیتے ہیں یہاں تک کہ معاملہ عمل جراحی تک جا پہنچتا ہے۔ اگر بر وقت علاج معالجہ کیا جائے اور حفاظتی تدابیر و احتیاط کر لی جائے تو مرض پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔بواسیر کی اقسام ۔ بواسیر کی دو اقسام ہیں۔

بواسیر خونی اور بواسیر بادی۔پہلی قسم میں خون آتا ہے جبکہ ثانی الذکر میں خون نہیں آتا، جبکہ باقی علامات ایک جیسی ہوتی ہے۔بواسیر کس طرح ہوتی ہے ؟گردش خون کے نظام میں دل اور پھیپھڑوں سے تازہ خون شریانوں کے ذریعے جسم کے تمام اعضاء کو ملتا ہے، اس کے ساتھ آکسیجن فراہم کرتا ہے۔

پھر ان حصوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ والا خون واپس دل اور پھیپھڑوں تک وریدوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔ مقعد میں خاص قسم کی وریدوں میں راستہ ( Valves ) نہ ہونے کی وجہ سے ان وریدوں میں خون اکٹھا ہو کر سوزش پیدا ہو جاتی ہے جو کہ بواسیر کہلاتی ہے۔ اس طرح یہ مرض ہو جاتا ہے اور مناسب تدابیر نہ کی جائیں تو وریدیں اس قدر کمزور ہو جاتی ہیں کہ تھوڑی سے رگڑ سے بھی پنکچر ہو کر خون خارج کرنے لگتی ہیں۔ مقعد کے اوپر والے حصے کے اندر خاص قسم کے خلیوں کی چادر ہوتی ہے جو کہ بہت حساس اور ( Painless ) ہوتی ہے۔

جب کہ مقعد کا نچلے والا حصہ جلد کا ہوتا ہے اور اس میں درد محسوس کرنے والے خ لیے ہوتے ہیں۔ مقعد میں بڑی اور چھوٹی وریدوں کے باعث موہکے (مسے) بھی ان کی پوزیشن پر ہوتے ہیں۔ بواسیر کے تین چھوٹے اور تین بڑے موہکے ہوتے ہیں۔

بواسیر کے اسباب:عموماً یہ مرض موروثی ہوتا ہے۔ مستقل قبض کا رہنا بھی اس کا اہم سبب ہوتا ہے۔ خواتین میں دوران حمل اکثر قبض کا عارضہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مقعد کے پٹھوں میں کھچاؤ، گرم اشیاء مصالحہ جات کا بکثرت استعمال، خشک میوہ جات کی زیادتی، غذا میں فائبر ( ریشہ ) کی کمی سے بھی مقعد میں دباؤ بڑھ کر وریدوں میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔

وہ لوگ جو دن بھر بیٹھنے کا کام کرتے ہیں اور قبض کا شکار ہو جاتے ہیں وہ بھی عموماً بواسیر کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔علامات: مقعد میں خارش، رطوبت اور درد کا ہونا، اجابت کا شدید قبض سے آنا، رفع حاجت کے دوران یا بعد میں خون کا رسنا، قبض کی صورت تکلیف کا بڑھ جانا اور مقعد پر گاہے گاہے موہکوں کا نمایاں ہونا شامل ہے۔

وائرل نیوز! اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) بواسیر کا مرض پاکستان میں عام ہے۔ جلد توجہ نہ دینے اور ٹوٹکے کرنے سے اکثر مریض مرض کو پیچیدہ کر لیتے ہیں یہاں تک کہ معاملہ عمل جراحی تک جا پہنچتا ہے۔ اگر بر وقت علاج معالجہ کیا جائے اور حفاظتی تدابیر و احتیاط کر لی جائے تو مرض پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔

بواسیر کی اقسام ۔ بواسیر کی دو اقسام ہیں۔بواسیر خونی اور بواسیر بادی۔پہلی قسم میں خون آتا ہے جبکہ ثانی الذکر میں خون نہیں آتا، جبکہ باقی علامات ایک جیسی ہوتی ہے۔بواسیر کس طرح ہوتی ہے ؟گردش خون کے نظام میں دل اور پھیپھڑوں سے تازہ خون شریانوں کے ذریعے جسم کے تمام اعضاء کو ملتا ہے، اس کے ساتھ آکسیجن فراہم کرتا ہے۔

پھر ان حصوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ والا خون واپس دل اور پھیپھڑوں تک وریدوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔ مقعد میں خاص قسم کی وریدوں میں راستہ ( Valves ) نہ ہونے کی وجہ سے ان وریدوں میں خون اکٹھا ہو کر سوزش پیدا ہو جاتی ہے جو کہ بواسیر کہلاتی ہے۔ اس طرح یہ مرض ہو جاتا ہے اور مناسب تدابیر نہ کی جائیں تو وریدیں اس قدر کمزور ہو جاتی ہیں کہ تھوڑی سے رگڑ سے بھی پنکچر ہو کر خون خارج کرنے لگتی ہیں۔ مقعد کے اوپر والے حصے کے اندر خاص قسم کے خلیوں کی چادر ہوتی ہے جو کہ بہت حساس اور ( Painless ) ہوتی ہے۔

جب کہ مقعد کا نچلے والا حصہ جلد کا ہوتا ہے اور اس میں درد محسوس کرنے والے خ لیے ہوتے ہیں۔ مقعد میں بڑی اور چھوٹی وریدوں کے باعث موہکے (مسے) بھی ان کی پوزیشن پر ہوتے ہیں۔ بواسیر کے تین چھوٹے اور تین بڑے موہکے ہوتے ہیں۔

بواسیر کے اسباب:عموماً یہ مرض موروثی ہوتا ہے۔ مستقل قبض کا رہنا بھی اس کا اہم سبب ہوتا ہے۔ خواتین میں دوران حمل اکثر قبض کا عارضہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مقعد کے پٹھوں میں کھچاؤ، گرم اشیاء مصالحہ جات کا بکثرت استعمال، خشک میوہ جات کی زیادتی، غذا میں فائبر ( ریشہ ) کی کمی سے بھی مقعد میں دباؤ بڑھ کر وریدوں میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔

وہ لوگ جو دن بھر بیٹھنے کا کام کرتے ہیں اور قبض کا شکار ہو جاتے ہیں وہ بھی عموماً بواسیر کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔علامات: مقعد میں خارش، رطوبت اور درد کا ہونا، اجابت کا شدید قبض سے آنا، رفع حاجت کے دوران یا بعد میں خون کا رسنا، قبض کی صورت تکلیف کا بڑھ جانا اور مقعد پر گاہے گاہے موہکوں کا نمایاں ہونا شامل ہے۔

Leave a Comment