Artical

اگر کوئی اس پر عمل کرے تو اس شخص کو دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Written by admin

اُردو کی نصیحت کا تو میں اہل نہیں اردو میں جس کو نصیحت کہتے ہیں البتہ عربی والی نصیحت جس کے معنیٰ ہوتے ہیں خیرخواہی اس کا ہر مسلمان اہل ہے تو تعمیل حکم کی خاطر ایک کلمہ عرض کرتاہوں اور نصیحت کی بات کسی لمبی چوڑی تقریر کی محتاج نہیں ہوتی ایک کلمہ بھی اگر اخلاص کے ساتھ کہاجائے اخلاص کے ساتھ سنا جائے کار آمد ہوجاتا ہے

خدا نہ کرے اخلاص مفقود ہو تو لمبی چوڑی تقریریں بھی بے فائدہ ہوں گی وہ کلمہ ہے میرے مخدوم بزرگ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاصاحب قدس اللہ تعالیٰ سرہ اللہ تعالیٰ ان کےدرجات بلند فرمائیں وہ ایک مرتبہ دارالعلوم تشریف لائے تھے ہم نے ان سے درخواست کی کہ حضرت کوئی نصیحت فرمادیجئے حضرت وعظ وغیرہ کا معمول نہیں رکھتےتھے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور تشریف لے گئے

یعنی بلا مبالغہ ایک جملہ اور یہی بات ہوتی ہے بزرگوں کی کہ ان کا ایک جملہ بھی کافی ہوجاتا ہے اگر انسان اس کو صحیح طور سے سنے سمجھے اور غور کرے وہ جملہ یہ ارشادفرمایا کہ طالبعلموں اپنی قدر پہچانو بس یہ جملہ ارشاد فرمایا اور یہی ساری تقریر تھی یہی ساراوعظ تھا یہی سارا بیان تھا جملہ ایک ہے تفصیل کرنے بیٹھو تو گھنٹے گزر جائیں

اور اس کی تفصیل کاحق ادا نہ ہو تو یہی بات میں حضرت کی آپ تک پہنچاتا ہوں کیونکہ حضرت سے سنی تو اس واسطے وہ پہنچاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو طلب علم کی قدر پہچاننے کی توفیق عطافرمائے یہ نعمت جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہم کو بھی عطافرمائی کہ اپنے دین کے علم سے وابستہ کردیا یہ اتنی بڑی نعمت ہے اتنی بڑی نعمت ہے اتنی بڑی نعمت ہے

کہ اس کا کوئی حد و شمار ممکن ہی نہیں اتنی بڑی نعمت ہے یہ قرآن کریم محض الفاظ معانی تو درکنار قرآن کریم کے محض الفاظ سیکھ لینا اور اس کا انتظام ہوجانا یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ کوئی حدو حساب نہیں کیونکہ حضرات صحابہ کرام ؓ نے اس قرآن کریم کی ایک ایک آیت کو حاصل کرنے کے لئے جو مصیبتیں سہی ہیں جو قربانیاں اُٹھائی ہیں اور جو پریشانیاں برداشت کی ہیں آج ہم آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے

یہ قرآن کریم ایسے ہی آج بیٹھے بٹھائے پکی پکائی روٹی کی شکل میں ہمیں مل گیا جلد میں مجلد ہے کتاب چھپی ہوئی ہے اعلیٰ درجے کے ورق پر چھپی ہوئی ہے پڑھانے کے لئے استاذ موجود ہے مدرسہ موجود ہے درس گاہ موجود ہے پکی پکائی روٹی ہمارے پاس موجود ہے صرف حلق سے اتارنے کی دیر ہے اور ان حضرات نے اس ایک ایک آیت کو حاصل کرنے کے لئے کیا کیا مشقتیں اُٹھائی ہیں بخاری میں واقعہ آتا ہے کہ بچے تھے حضرت عمر ابن سلمہ وہ مدینہ منورہ سے کہیں دور رہا کرتے تھے اور شوق تھا کہ قرآن کریم کا علم حاصل کروں

قرآن کریم کی آیتیں یاد کرو کوئی بتانے والا نہیں کوئی پڑھانے والا نہیں فرماتے تھے کہ روز مدینہ منورہ سے جو قافلے آیا کرتے تھے اس کی سڑک پر جاکر کھڑا ہوجایا کرتاتھا کہ کوئی قافلہ آتا تو ان میں سے ایک ایک سے پوچھتا کہ تمہیں قرآن کریم کی کوئی آیت یاد ہو تو مجھے سکھا دو ایک ایک آیت ان قافلے کے افراد سے سیکھتا

اور بس صبح شام یہی مشغلہ تھا اس سڑک پر کھڑے ہیں اس انتظار میں کوئی قافلہ آئے گا مدینہ منورہ سے کوئی آدمی آئے گا اس سے قرآن کریم کی ایک دو آیتیں سیکھ لیں گے اس طرح فرماتے ہیں کہ میں اپنی بستی کے اندر قرآن کریم کی آیات مجھے یاد ہوگئیں اور نبی کریم ﷺ نے مجھے اپنی بستی میں امام مقرر فرمایا۔اللہ ہم سب کاحامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment