Artical

او ن ٹ سانپ کیوں کھاتا ہے ؟

Written by admin

آپ نے اونٹ کو دیکھا ہوگا کیا آپ نے کبھی اونٹ کی شکل و صورت پر غور کیا ہے اس کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی ایک نشانی کے طورپر بیان فرمایا ہے اسی لئے سورہ غاشیہ ان آیات کا ترجمہ کچھ یوں ہے کیا یہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے پیدا کیا گیا اور آسمان کو کیسے بلند کیا

اور پہاڑوں کو کہ انہیں کس طرح گاڑا گیا اور زمین کو کیسے بچھایا گیا اللہ تعالیٰ نے اپنی چار بڑی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے غور طلب بات یہ ہے کہ آسمان پہاڑ اور زمین جیسی نشانیوں کو بعد میں بیان فرمایا اور اونٹ کو ان نشانیوں پر مقدم کیا

بظار آسمان پہاڑوں اور زمین کے ساتھ اونٹ کا ذکر اور وہ بھی اس اہمیت کے ساتھ اس سے پہلے افلا ینظرون کہہ کر اس میں غورو فکر کی دعوت دی ہے گویا اس بات پر توجہ کرنے کا حکم ہے کہ اونٹ کا ذکر ہم نے یہاں بے وجہ نہیں کیا جب اس پر غور کرو گے انسانوں کے لئے اس جانور میں کیا کیافائدے ہیں جو دوسرے جانوروں میں نہیں ہیں اونٹ کے کوہان میں ایک منفرد چیز ہے جو دوسرے جانوروں مثلاگائے بھینس وغیرہ میں کوہان جسم کے اگلے حصے میں ہوتی ہے

جبکہ اس کی کویہان پیٹھ کے وسط میں ہوتی ہے اس کے تخلیقی اور سائنسی فوائد بے شمار ہیں اس کے خالص سائنسی اور کیمیائی فوائد چونکہ سائنس کے طلباء کے لئے بہت اہم ہیں مگر عام قارئین کے لئے مشکل فہم ہیں اس لئے ان تفصیلات کو ہذف کردیا گیا ہے اونٹوں کی بہت سی قسمیں ہیں مثلا بعض اونٹ دو کوہان والے ہوتے ہیں

جو اونٹ کو صحرائی علاقوں میں دوسرے جانوروں کے مقابلے میں زیادہ فعال اور زندہ رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں وزن اٹھانے کی صلاحیت صحرا میں گرم ترین موسم میں کام کرنا اونٹ کی خاص پہچان ہے اس کے بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہ صرف گھوڑے بلکہ ہاتھی سے بھی زیادہ ہے جسمانی وزن کے لحاظ سے بوجھ اٹھانے کی صلاحیت میں کوئی دوسرا حیوان اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا

اس کے پورے جسم کے مقابلے میں اس کی ٹانگیں کافی پتلی ہوتی ہیں تمام کھردار جانوروں کی انگلیوں پر کھروں کا خول چڑھا ہوتا ہے اور ان کی انگلیاں نظر نہیں آتی یہ انگلیوں کی حفاظت کے لئے ہوتے ہیں اور یہ جانور اپنے کھروں کے بل پر چلتے ہیں اونٹ اس معاملے میں بھی دوسرے جانوروں سے مختلف ہوتے ہیں کہ اس کے کھر تو ہوتے ہیں مگر اس کی انگلیوں کا اگلا حصہ ناخن کی صورت میں کھلا ہوتا ہے

بہت سے جانور پنجوں کے بل پر چلتے ہیں جیسے کتا بلی وغیرہ اونٹ نہ انگلیوں کے بل چلتا ہے نہ پنجوں کے بل اس لئے اس کی چال دوسرے جانوروں سے مختلف ہے اونٹ کی چال دوسرے چوپائے گائے بکری بھینس وغیرہ چلتے ہیں تو جب انکی اگلی دائیں ٹانگیں اٹھتی ہیں تو اس وقت پچھلی بائیں ٹانگ بھی اٹھتی ہے اسی طرح ان کا توازن اگلی بائیں اور پچھلی دائیں ٹانگ کی مدد سے قائم رہتا ہے اونٹ اس معاملے میں بھی منفرد ہے

اس کی اگلی اور پچھلی ٹانگیں بیک وقت ایک ہی طرف کی اٹھتی ہیں اس کے علاوہ گائے بھینس وغیرہ جسم کے پچھلے جانب ٹانگیں زیادہ طاقت سے چلا سکتے ہیں آگے کی طرف بھی جانور اتنی طاقت سے ٹانگ نہیں چلا سکتے اونٹ کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ وہ آگے پیچھے یکساں طاقت کے ساتھ حرکت دے سکتا ہے اسی لئے اس کی ٹانگیں جسم کے عین نیچے کی جانب مڑ سکتی ہیں جب وہ بیٹھتا ہے تو اس کا جسم زمین سے تھوڑا اٹھا ہوا رہتا ہے

اور سیدھا ہوتا ہے جبکہ گائے بھینس گدھا وغیرہ کروٹ پر بیٹھتے ہیں سیدھے نہیں بیٹھ سکتے اس کے علاوہ جسے اونٹ کا گھٹنا سمجھتے ہیں وہ اونٹ کا ٹخنا ہے اس ٹخنے کا فاصلہ پیروں سے کچھ زیادہ ہوتا ہے اس کا گھٹنا اس کے پیٹ کے قریب ہوتا ہے اونٹ چوپایوں کا صوفی جانور ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Leave a Comment