Artical

انسان کی عقل کا امتحان 6 چیزوں سے ہوتا ہے ؟

Written by admin

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضرت کو تین بہترین فضیلتیں عطا کی گئیں جن میں سے ایک بھی اگر مجھے مل جاتی تو وہ میرے نزدیک دنیا سے زیادہ محبوب ہوتیں۔لوگوں نے پوچھا وہ تین فضیلتیں کون سی ہیں ؟

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا پہلی فضیلت یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح ان سے کیا، دوسری فضیلت یہ ہے کہ ان دونوں کو مسجد میں رکھا اور جو کچھ انہیں وہاں حلال ہے مجھے حلال نہیں تیسیر فضیلت یہ ہے کہ غزوہ خیبر کے دن انہیں علم عطافرمایا جو آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ دنیا کا طالب نہیں ہوتا۔

انسان کی عقل کا امتحان چھ چیزوں سے ہوتا ہے غصے کے وقت بردباری کا مظاہرہ کرنا خوف کے وقت صبر کرنا رغبت کے وقت میانہ روی اختیار کرنا تقویٰ اختیار کرنا لوگوں سے صلح کرنا لوگوں سے جھگڑا نہ کرنا۔ اس شخص کا ایمان کامل ہے جو دوستی کرتا ہے تو اللہ کی رضاکے لئے اور اگر دشمنی کرتا ہے تو اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے اور اگر کسی سے راضی ہو تا ہے تو اللہ کی رضا کے لئے اور اگر کسی سے ناراض ہوتا ہے

تووہ بھی اللہ کی رضا کے لئے ہوتا ہے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے وافر مال عطا فرمایا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنے بیٹوں سے کہنے لگا: میں تمہارا کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے جواب دیا، آپ بہت اچھے باپ ہیں۔

کہنے لگا: میں نے نیکی کا کبھی کوئی کام نہیں کیا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا اور جس روز تیز ہوا چلے تو میری راکھ کو بھی اُڑا دینا۔ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اُس کے ذرات کو جمع کر کے دریافت فرمایا: تجھے اِس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟

اُس نے جواب دیا: تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنی آغوشِ رحمت میں لے لیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کی جب موت کا وقت آیا اور وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوگیا تو اُس نے اپنے اہل و عیال کو وصیت کی: جب میں مر جاؤں تو میرے لئے بہت سا ایندھن اکٹھا کر کے آگ جلانا (اور مجھے جلا دینا)،

جب آگ میرے گوشت کو جلا کر ہڈیوں تک پہنچ جائے تو میرے جسم کو لے کر پیس ڈالنا اور کسی گرم ترین دن میں یا جس روز تیز ہوا چلے تو میری راکھ کو دریا میں ڈال دینا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اجزا کو جمع کیا اور فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اُس نے جواب دیا: محض تجھ سے ڈرتے ہوئے، پس اﷲ تعالیٰ نے اُس کی مغفرت فرما دی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment