Artical

اسلام اور شریعت کے مطابق میاں بیوی کی حدود شادی شدہ افراد ضرور جاننے

Written by admin

*میاں بیوی کے تعلق سے کچھ ایسے مسائل ہیں جن کا جاننا ضروری ہے مگر وہ نہیں جانتے کیوں کیونکی دینی کتاب ہم پڑھتے نہیں اور عالم سے پوچھ نے میں شرم آتی ہے مگر عجیب بات ہے مسئلہ پوچھنے میں تو ہمیں شرم اتی ہے مگر وہی غیرت اس وقت مر جاتی ہے جب دولہا اپنے دوستوں کو اور دلہن اپنی سہیلیوں کو پوری رات کی کہانی سناتے ہیں خیر یہ میسج  کر کے رکھیں اور اپنے دوستوں اور عزیزوں میں جنکی شادیاں ہوں انھے تحفے کے طور پر یہ میسج سینڈ کریں* *حضرت امام غزالی رضی اللّه عنہ فرماتے ہیں کی ج م ا ع  یعنی ص ح ب ت  کرنا جنّت کی لذتوں میں سے ایک لذت ہے**حضرت جنید بغدادی رضی اللّه عنہ فرماتے ہیں کی انسان کو ج م ا ع  کی ایسی ہی ضرورت ہے جیسے غزا کی کیونکہ بیوی کی طہارت کا سبب ہے* *(احیاء العلوم جلد 2 ص: 29 )**حدیث پاک میں آتا ہے کی جس طرح حرام ص ح ب ت  پر گناہ ہے اسی طرح جائز ص ح ب ت  پر نیکیاں ہیں* *( مسلم جلد 1_ ص : 324)**ام المومنین سیّد عائشہ صدیقہ رضی اللّه عنہا سے مروی ہے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔

کی جب ایک مرد اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑتا ہے تو اسکے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھدی جاتی ہے اور جب اسکے گلے میں ہاتھ ڈالتا ہے تو دس نیکیاں لکھدی جاتی ہیں اور جب اس سے ص ح ب ت  کرتا ہے تو دنیان اور مافیہا سے بہتر ہو جاتا ہے اور جب غسل جنابت کرتا ہے تو پانی جس جس بال پر گزر تا ہے تو ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ کم ہوتا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند ہوتا جاتا ہے* *(غنیت الطالبین : ص : 113)**حضرت عبد اللّه ابن مسعود رضی اللّه تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے عرض کیا کی میں نے جس لڑکی سے شادی کی ہے مجھے لگتا ہے کی وہ مجھے پسند نہیں کرے گی ۔جاری ہے تو آپ فرماتے ہیں کی محبّت خدا کی طرف سے ہوتی ہے اور نفرت شیطان کی طرف سے تو ایسا کرو۔

کی جب تم پہلی بار اسکے پاس جاؤ تو دونو وضو کرو اور دو رکعت نماز نفل شکرانہ اس طرح پڑھو کی تم امام ہو اور وہ تمہاری اقتدا کرے تو ان شاء اللّه تم اسے محبّت اور وفا کرنے والی پاؤ گے* *( غنیت الطالبین ، ص : 115 )**نماز کے بعد شوہر اپنی دلہن کی پیشانی کے تھوڑے سے بال نرمی اور محبّت سے پکڑ کر یہ دعا پڑھے**(اللھــــم انـــی اسئلکــــــــــ مــن خیــــرہا وخیــــر ما جبلتھـــا علیـــہ واعـــوذ بکــــــ من شـــــرھا وشــر ما جبلتھـــا علیــہ )* *تو نماز اور اس دعا کی برکت سے میاں بیوی کے درمیان محبّت اور الفت قائم ہوگی ان شاء اللّه* *( ابو داؤد ، ص : 293)**خاص ج م ا ع  کے وقت بات کرنا مکروہ ہے

اس سے بچے کے توتلے ہونے کا خطرہ ہے اسی طرح اس وقت عورت کی شرم گاہ کی طرف نظر کرنے سے بھی بچنا چاہیے کی بچے کا اندھا ہونے کا امکان ہے یوں ہی بالکل برہنہ بھی ص ح ب ت  نا کریں ورنہ بچے کے بے حیا ہونے کا اندیشہ ہے* *( فتاویٰ رضویہ جلد 9 : ص : 46 )**ہ م ب س ت ر ی  کے وقت بسم اللّه شریف پڑھنا سنّت ہے مگر یاد رہے کی ستر کھولنے سے پہلے پڑھے اور سب سے بہتر ہے کی جب کمرے میں داخل ہو تب ہی بسم اللّه شریف پڑھ کر دایاں قدم اندر داخل کریں اگر ہمیشہ ایسا کرتا رہے گا تو شیطان کمرے سے باہر ہی ٹھر جائے گا ورنہ وہ بھی آپکے ساتھ شریک ہوگا* *(تفسیر نعیمی جلد 2 ، ص : 410 )**اعلحضرت فرماتے ہیں ۔ کی عورت کے اندر مرد کے مقابلے 100 گناہ زیادہ شہوت ہے مگر اس پر حیا کو مسلط کر دیا گیا ہے۔

تو اگر مرد جلدی فارغ ہو جائے تو فورا اپنی بیوی سے جدا نہ ہو بلکی کچھ دیر ٹھرے پھر الگ ہو* *( فتاویٰ رضویہ ، جلد 9 ، ص 183 )**ج م ا ع  کے وقت کسی اور کا تصور کرنا بھی ز ن ا  ہے اور سخت گناہ اور ج م ا ع  کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہاں بس اتنا خیال رہے کی نماز فوت نا ہونے پاے کیونکہ بیوی سے بھی نماز روزہ احرام اعتکاف حیض نفاس اور نماز کے ایسے وقت میں ص ح ب ت  کرنا کی نماز کا وقت نکل جائے حرام ہے* *( فتاویٰ رضویہ جلد 1 ص 584)**مرد کا اپنی عورت کی چھاتی کو منہ لگانا جائز ہے مگر اس طرح کی دودھ حلق سے نیچے نا اترے یہ حرام ہے

لیکن ایسا ہو بھی گیا تو توبہ کرے مگر اس سے نکاح پر کوئی فرق نہیں آتا* *( در مختار ، جلد 2 ، ص ، 58 )* *( فتاویٰ رضویہ ، جلد ، ص 568 )**مرد و عورت کو ایک دوسرے کا سطر دیکھنا چھونا جائز ہے مگر حکم یہی ہے کی مقام مخصوس کی طرف نا دیکھا جائے کہ اس سے نسیان کا مرض ہوتا ہے اور نگاہ بھی کمزور ہو جاتی ہے* *( رد المختار جلد 5 ، ص ، 256 )**مرد نیچے ہو عورت اپر یہ طریقہ ہرگز صحیح نہیں ہے اس سے عورت کے بانجھ ہو جانے کا خطرہ ہے* *(مزربات یوسف ، ص 41 )**فراغت کے بعد مرد و عورت کو الگ الگ کپڑے سے اپنا سطر صاف کرنا چاہیے کیونکی دونوں کا ایک ہی کپڑا استمعال کرنا نفرت اور جدائی کا سبب ہے* *( کیمیاے سعادت ، ص ، 265 )**احتلام ہونے کے بعد یا دوسری مرتبہ ص ح ب ت  کرنا چاہتا ہے۔

تب بھی سطر دھوکر وضو کر لینا بہتر ہے ورنہ ہونے والے بچے کو بیماری کا خطرہ ہے* *( قبتل قبل ، جلد 2 ، ص ، 489 )**زیادہ بوڑھی عورت سے یا کھڑے ہوکر ص ح ب ت  کرنے سے جسم بہت کمزور ہو جاتا ہے اسی طرح بھرے پیٹ پر ص ح ب ت  کرنا بھی سخت نقصان دہ ہے*۔ *( بستانل عارفین ، ص ، 139 )**ج م ا ع  کے بعد عورت کو دائیں کروٹ پر لیٹنے کا حکم دیں کی اگر نطفہ قرار پا گیا تو ان شاء اللّه لڑکا ہی ہوگا* *( مجربات یوسف ، ص 42 )**ج م ا ع  کے فورا بعد پانی پینا یا نہانا صحت کے لیے نقصان دہ ہے ہاں سطر دھو لینا اور دونوں کا پیشاب کر لینا صحت کے لیے فائیدہ مند ہے* *( بستانل عارفین ، ص ، 138 )**طبیب کہتے ہیں

کی ہفتے میں دو بار سے زیادہ ص ح ب ت  کرنا ہلاکت کا بائس ہے شیر کے بارے میں آتا ہے کی وہ اپنی مادہ سے سال میں ایک مرتبہ ہی ج م ا ع  کرتا ہے اور اسکے بعد اس پر اتنی کمزوری لاحق ہو جاتی ہے اگلے 48 گھنٹے تک وہ چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں رہتا اور 48 گھنٹے کے بعد جب وہ اٹھتا ہے تب بھی لڑکھڑا تا ہے* *( مجربات یوسف ، ص ، 41 )**عورت سے حیض کی حالت میں ص ح ب ت  کرنا جائز نہیں اگر چہ شادی کی پہلی رات ہی کیوں نہ ہو اور اگر اسکو جائز جانے جب تو کافر ہو جائے گا یوں ہی اسکے پیچھے کے مقام میں ص ح ب ت  کرنا بھی سخت حرام ہے* *( بہار شریعت ، جلد 2 ، ص ، 78 )**مگر حیض کی حالت میں وہ اچھوت بھی نہیں ہو جاتی جیسا کی بہت جگہ رواج ہے کی فاتحہ وغیرہ کا کھانا بھی نہیں بنانے دیتے یہ جہالت ہے۔

بلکی اسکے ساتھ سونے میں بھی حرج نہیں جب کہ شہبت کا خطرہ نہ ہو ورنہ الگ سوئے* *( فتاویٰ مصطفویہ جلد 3 ، ص ، 13 )**قیامت کے دن سب سے بدتر مرد و عورت وہ ہونگے جو اپنی راز کی باتیں اپنے دوستوں کو سناتے ہیں* *( مسلم ، جلد 1 ص ، 464 )**عورت سے جدا رہنے کی مدت 4 مہینہ ہے اس سے زیادہ دور رہنا منع ہے* *( تاریخ خلفاء ، ص ، 97 )**اعلحضرت فرماتے ہیں کی حمل ٹھرنے سے روکنے کے لیے دوا یا کوئی اور طریقہ استمعال کرنا ۔ یا حمل ٹھہرنے کے بعد اس میں روح پھوکنے کی مدت 120 دن ہے تو اگر کسی عذر شرعی مثلا بچہ ابھی چھوٹا ہے

اور یہ دوسرا بچہ نہیں چاہتا تو حمل ساکت کرنا جائز ہے مگر روح پکڑنے کے بعد حمل گرانا حرام اور گویا قتل ہے* *( فتاویٰ رضویہ ، جلد 9 ،ص ، 524)**اگر طغرہ میں قرآن کی آیت لکھی ہے تو جب تک اس پر کوئی کپڑا نا ڈالا جائے اس کمرے میں ص ح ب ت  کرنا یا برہنہ ہونا بے ادبی ہے ہاں قرآن اگر جزدان میں ہے تو حرج نہیں یوں ہی قبلہ رو ہونا بھی منع ہے*۔ *( فتاویٰ رضویہ ، جلد ، 9 ، ص ، 522 )**جو بچہ سمجھدار ہو اس کے سامنے ص ح ب ت  کرنا مکروہ ہے* *( الملفوظ ، حصہ ، ص ، 14 )**کسی کی دو بیویاں ہیں اگرچہ اس کا کسی سے پردہ نہیں مگر عورت کا عورت سے پردہ ہے تو ایک کے سامنے دوسرے سے ص ح ب ت  کرنا جائز نہیں* *( فتاویٰ رضویہ ، جلد 9 ، ص 207)**یاد رہے پہلی رات خون آنا کوئی ضروری نہیں ہے جو جاہل اس طرح کی بات سوچتے ہیں وہ کم علمی ہیں کیونکی آج کے دور میں جس جھلی کے پھٹنے سے وہ خون آرٹ کی شرم گاہ سے آتا ہے وہ بچپن میں کھیل کود سائکل چلانے حتی کے اور بھی چیزوں سے پھٹ سکتی ہے لہٰذا عقل سے کام لیا کیجیے*۔

 

Leave a Comment